بلاگ محافظ

website tracker

بلاگر حلقہ احباب

مسلمانوں کے تہوار


رمضان ہوں تو دروازے پر افطار مانگنے والا سوالی آئے خالی ہاتھ نہیں جاتا ، عیدالفطر ہو فطرہ دیے بغیر نمازی عید گاہ نہیں جاتا ، عیدالاضحٰی ہو غریبوں ، مساکین کے گھر گوشت ہوتا ہے جو ہم کھاتے ہیں کئی ہفتوں تک غریب کی کٹیا میں وہی گوشت بنتا ہے ۔
محترمہ عائشہ غازی نے کچھ اس طرح کی ایک بہت خوب پوسٹ لکھی اور میں بہت کچھ سوچنے لگا ۔
اربوں کی زکوٰۃ جمع ہوتی ہے تو اللّٰہ پاک کے کرم سے
شوکت خانم ہسپتال چلتا ہے ، انڈس ہسپتال علاج کرتا ہے ، ایس آئی یو ٹی میں ڈاکٹر ادیب رضوی کو مسلک بھلا کر اعتماد کیا جاتا ہے ، ایل آر بی ٹی آنکھوں کی روشنی دیتا ہے ، الخدمت کے ہسپتال ، اسکول ، صاف پانی کے پروجیکٹ ، میت گاڑیاں رواں دواں ہیں ، ایدھی ، چھیپا ، سیلانی ، عالمگیر ٹرسٹ ، فلاح انسانیت اپنا کام جاری و ساری رکھتے ہیں ،خدمت خلق فاؤنڈیشن بھلے وہ ایم کیو ایم لندن کی ہو یا پاکستان کی ہزاروں افراد کی دادرسی کرتی ہے ۔
یہ صرف زکوٰۃ سے ہی نہیں چلتے ، کھال اور پورے سال صدقات ادا کرتے ہیں تو لوگوں کو فائدہ ہوتا ہے ، عقیدے سے ہٹ کر محرم ہو ، میلاد ہو ، عرس ہو غریب کہیں نہ کہیں کچھ پاتا ہے یہ رب العالمین کی شان ہے کسی کو کہاں سے دے ، میں نے شیر کا چھوڑا شکار افریقہ کے جنگل میں انسانوں کو کھاتے دیکھا ہے ، انسانوں کا چھوڑا چرند پرند تو کھاتے ہی ہیں ۔
ویلینٹائن ، نیو ائیر ، مہندی ، مایوں ، ڈانس پارٹی ، فلم کے پرئمیر ، ایکٹرز ایوارڈ جس کو صابن اور واشنگ پاؤڈر اسپانسر کرتے ہیں ان کا کیا حاصل انسانیت کو ملتا کیا ہے ؟ سوائے ہو ہا شاوا شاوا ہپ ہپ ہرّے کے (یہاں تک تو ایک سنجیدہ صہیب نے لکھ دیا اب آجائیں اٹھارہ پلس پر) ۔
ایک کہتا ہے ریٹائرڈ بھگوڑا خطیب ۔۔۔ جانوروں کو بچوں کے سامنے ذبح نہ کرو ان میں تشدّد پیدا ہوتا ہے ، عمران ہاشمی ، شاہد کپور کی پپیاں دکھاؤ اس سے پپی کا جذبہ پیدا ہوتا ہے جو تم کو تسکین دے ایسی لڑکیاں پیدا کردے جن کو ان باکس کرکے تم سیمینار میں بلاؤ اور راجہ اندر بن کر عیش کی تصویریں لگاؤ ، شیما کے دھمال بچوں کو دکھائیں تاکہ گھر گھر طوائف ناچیں ، ہم اپنے بچوں کو سلمان خان اور شاہ رخ کی فلمیں دکھائیں اور پندرہ سال کے بچوں کو محبت کے نام پر خودکشی کروائیں ۔
ایک لکھتا ہے موسیقی تشدّد کو مارتی ہے ، چل نکل آگے بڑھ ، اس کو بتاؤ ذرا کنسرٹ میں رینجرز اور پولیس کیوں لگتی ہے ، کیسے اس اچھل کود میں لڑکیوں کی وقفے وقفے سے آنکھیں پھٹ رہی ہوتی ہیں ، کیونکہ پیچھے کھڑے موسیقی کے پرامن دلدادہ اپنی انگلیوں سے بیس بجا رہے ہوتے ہیں پھر ایک غیرت مند ناراض ہوجاتا ہے ، کیونکہ یہ اس کا حق ہوتا ہے جو دوسرا کررہا ہوتا ہے ، ڈیفنس کی ڈانس پارٹیوں کے احوال اس موسیقی کے پیدا کو بتاؤ جہاں اکثر اختتام ڈانسر کے قتل پر ہوتا ہے یا اس کو بار بار پکڑنے کی کوشش کرنے والے کی موت پر ۔
ہمارے تہوار ہماری عبادت ہم کو انسانیت سکھاتے ہیں تمہاری انسانیت کے چوپے نہیں (دوستوں سے معذرت برما کا بھی غصہ ہے )
صہیب جمال

about author

Blogger Sens it website about blogger templates and blogger widgets you can find us on social media
Previous Post :Go to tne previous Post
Next Post:Go to tne Next Post

No comments:

Post a Comment