چند برس پہلے فیس بک پر کچھ ایسی آئیڈیز، گروپس اور پیجز نمودار ہوئے جن کا کہنا تھا کہ وہ ملحد ہیں. بات یہاں تک رہتی تو کسے اعتراض ہوتا؟ آپ مسلمان ہیں، ہندو ہیں، عیسائی ہیں، یہودی ہیں، کسی بھی مذہب سے تعلق رکھتے ہیں یا پھر آپ دین بیزار اور ملحد ہیں کسی کو اس سے کوئی مسئلہ نہیں.
ہزاروں کیا لاکھوں ایسی آئیڈیز فیس بک پر موجود ہیں جن کے نظریات ایک دوسرے سے مختلف ہیں اور ہر کوئی اپنے نظریات کی بڑھ چڑھ کر تشہیر کررہا ہے.
انسان کے پاس عقل موجود ہے عقل کا استعمال کرتے ہوئے ہوئے جس کو جو عقیدہ یا نظریہ مناسب لگتا ہو وہ اس کو اختیار کر لے اور اسکی تشہیر کے لیے اپنی وال، گروپس اور پیجز کا استعمال کرے. بشرطیکہ اس کی یہ تشہیر کسی دوسرے کی تذلیل کا سبب نہ ہو. کسی کو بھی اس پر کوئی اعتراض نہیں. نہ آپکو کوئی جان کا خطرہ ہے نہ کسی کے جذبات مجروح ہوتے ہیں. نہ کوئی آپکو اپنا دشمن سمجھتا ہے. کوئی ایسا مسئلہ ہی نہیں.
لیکن کچھ سالوں پہلے کچھ ایسی آئیڈیز فیس بک پر نمودار ہوئیں جنہوں نے بظاہر خود کو ملحد ظاہر کیا اور اس نام نہاد الحاد کی آڑ میں مذاہب خصوصاً اسلام پر کڑی تنقید شروع کردی. مسلمانوں کی مذہبی شخصیات و مقدس مقامات کی تضحیک کا بیڑا اٹھالیا. اسلام کے تمام احکامات کا دل کھول کر مذاق اڑایا. اسلام کی تعلیمات کی اشکال کو مشکوک بنا کر پیش کرنا شروع کردیا. غرض ہر وہ کوشش کی کہ جس سے اسلام کو نقصان پہنچا سکیں.
جب ان سے سوال کیا جاتا کہ آپ لوگ کون ہیں اور آپ کے مقاصد کیا ہیں تو جواب ملتا کہ ہم انسانیت کے علمبراد ہیں اور انسانیت کی فلاح کے لیے کام کررہے ہیں.
کوئی مجھے سمجھائے یہ کیسی انسانیت ہے جس کا مقصد اپنے جیسوں کے علاوہ باقی تمام کی تذلیل کرنا ہے؟
یہ کیسی خدمتِ انسانیت ہے جو اسلام پر بکواسیات کیے بغیر ممکن نہیں ہے؟
اور تو اور آج تک ان فیس بکی ملحدین نے انسانیت کی فلاح کے لیے ایسا کِیا کیا ہے ماسوائے تنقیدِ اسلام کے؟ اور تنقید بھی ایسے مذہب کی جس کا سبجیکٹ ہی انسان ہے.
یہ ملحد اگر واقعی انسانیت پرست ہوں تو وہ کبھی بھی کسی مذھب کے خلاف زہر افشانی کی بجاۓ ہر مذھب کے پیرو سے فقط انسانی رویہ کو اپنانے پر زور دیں لیکن افسوس کہ اسلام کے دائرے سے بھاگ کر جو لوگ ملحدیت کی گود میں پناہ لیتے ہیں انکی زندگی کا ہدف صرف اورصرف اپنے سابقہ دین کے لوگوں کو بے راہ کرنا قرار پاتا ھے ۔۔۔یہ فضول مباحث میں گھنٹوں گذار دیتے ھیں لیکن عملی طور پر انسانیت کےفروغ کےلئےکوئ خاص خدمت نہیں سر انجام دیتے۔
اب کوئی سارا دن دین مخالف مباحث اور توہینِ اسلام کرنےکے بعد یہ سوچتا ہے کہ وہ انسانیت کی کوئی خدمت انجام دے رہا ہے اور اُسے اس کے بدلے پھولوں کے ہار پہنائے جائیں گے تو وہ کسی بھول میں نہ رہے. اپنی اس خدمت کا بدلہ آپ ضرور پائیں گے. شرط صرف یہ ہے کہ یہ والی خدمتِ انسانیت ایک بار آپ فیس بک سے باہر نکل کر کیجیے. ہمارے پاس آپ کی اس خدمت کا صلہ دینے واسطے کئ جانثار موجود ہیں.
ایسے ملحدین کی اللہ پاک نے کیا خوب قرآن مجید کی سورہ الجاثیہ میں تعریف بیان کی ہے.
کیا آپ نے اس شخص کو دیکھا جس نے اپنی نفسانی خواہش کو معبود بنا رکھا ہے اور اللہ نے اسے علم کے باوجود گمراہ ٹھہرا دیا ہے اور اس کے کان اور اس کے دل پر مُہر لگا دی ہے اور اس کی آنکھ پر پردہ ڈال دیا ہے، پھر اُسے اللہ کے بعد کون ہدایت کر سکتا ہے، سو کیا تم نصیحت قبول نہیں کرتے. (سورة الجاثیہ-23)
ااز
تابش طاہر
گروپ جوابات للکافرین









No comments:
Post a Comment