اللہ پر یقین دوسرا درجہ ہے،پہلے درجہ پر تو ہمیں یہ جاننا ہے کہ"اللہ" کیا ہے؟
جب ہم اس سوال پر آتے ہیں تو،ہمارے حواسِ خمسہ،کسی بھی وجود کو جاننے کی کوشش کرتے ہیں۔
یعنی انکھیں دیکھ کر ہاتھ چھو کر ۔ جبکہ اللہ کو ہم ان خواس یعنی دیکھ کر چھو کر نہں جان سکتے ۔ اب اگر کوئ چیز ہمیں نا نظر آرہی ہے اور نا ہی چھوئ جا رہی ہے تو اُس کے وجود پر کیسے یقین کیا جاۓ ؟؟؟
یہاں پھر بات آتی ہے کہ ہم اپنے عقل و شعور سے اس بات کو محسوس کریں کہ کیا کوئ ابدی قوت وجود رکھتی ہے ! لیکن اس کے لیے ہمیں لازمی کچھ تو کرنا ہے تاکہ ہم یہ کہہ سکیں اور سمجھ سکیں کہ ہم نے کسی قوت کو / قدرت کو / اللہ کو محسوس کیا ہے ۔۔
یہاں اللہ کو محسوس کرنے کے لیے ہمارے پاس دو راستے ہیں ۔۔
ایک ۔ کائنات میں جاری اٹل قوانین پر غور فکر
دو ۔ اللہ کی نازل کردہ کتاب ۔۔
( جبکہ ہمیں ابھی یہ بھی معلوم کرنا ہے کہ جو کتاب ہم اللہ کی کہہ رہے ہیں وہ واقعی اللہ ہی کی کتاب ہے ؟؟ )
پہلے راستے پر چلتے ہوۓ ۔۔
ہم یہ دیکھتے ہیں کہ سائنس نے کائنات میں جاری قوانین کو بہت گہرائ سے اسٹڈی کیا اور اور ایک طویل مدتی کائنات ( 14 ارب سال پر محیط ) کو اج تک کے دن تک اپنی عقل کے مطابق سمجھا لیا اور پھر یہ بات بھی سامنے لائ گئ کہ یہ کائنات اایک خاص قوت / طاقت سے ایک دوسرے کرووں سے جڑی ہوئ ہے بلکہ کھنچی ہوئ بھی ہے ۔ یہ نہایت شاندار قوت سامنے آئ جس میں ہر کررہ اپنی جگہ اپنی ساخت سے ساتھ مکمل طور پر موجود ہے جو اپنے ایک مخصوص دائرے میں رہتے ہوۓ اپنا کام انجام دے رہا ہے ۔ اس قوت / طاقت کو سائنس نے کشش ثقل / گرویٹیشنل فورس سے متعرف کروایا ۔۔ یہ فورس کسی خروجی طاقت سے پیدا نہں ہوئ بلکہ یہ ازخود ان کروں کے اندر موجود چھوٹے زررات الیکٹرون پروٹون نامی زرات سے پیدا ہوتی ہے ۔ یہاں تک بات لانے کی وجہ صرف اتنی تھی کہ ایا ان زرات کے اندر یہ طاقت کیسے پیدا ہوگئ ؟ کیا یہ خود کار زرات ہیں جو خود ہی اپنے اندر قوت پیدا کر لیتے ہیں ؟ اگر یہ خود کار کہلاۓ جائنگے تو پھر اس بات پر یقین کرنا لازمی ہوجاتا ہے کہ یہ خود کار زرات اپنی اس قوت کو خود ہی روک بھی سکتے ہیں !!
لمحہ بھر کے لیے فرض کر لیں کہ اگر یہ خود کار زرات خود ہی اپنی قوت کو روک لیں اور یہ اپنے دائروں میں سفر کرنا چھوڑ دیں تو اس کائنات میں کشش ثقل پر محیط کروں کی کیا حالت رہ جاۓ گی ؟؟؟؟ یہ کائنات شائد سیکنڈوں میں تباہ ہوجاۓ ۔ لیکن یہ طاقت انمیں انکی پیدا کردہ نہں شائد اسلیے یہ 14 ارب سسال سے گردش میں ہیں اور اس کائنات کو خوبصورتی سے پھیلاۓ رکھیں ہیں ۔۔ یہاں دوسری بات اور سمجھنے کی ہے کہ کیا یہ کائنات بگ بنگ سے پہلے کسی خاص شکل میں موجود تھی ؟ اگر ہاں تو کیا تھی اور اُسکا وجود کیسے ہوا ۔۔۔۔۔۔۔۔ ان دو سوالوں کو سامنے رکھ کر ہم اس بات پر یقین کر سکتے ہیں کہ کائنات میں کوئ موجود ہے جو اس نظام ہستی کو بہت احسن انداز میں نا صرف چلا رہا ہے بلکہ سمبھالا ہوا بھی ہے ۔۔۔
ہم یہ دیکھتے ہیں کہ سائنس نے کائنات میں جاری قوانین کو بہت گہرائ سے اسٹڈی کیا اور اور ایک طویل مدتی کائنات ( 14 ارب سال پر محیط ) کو اج تک کے دن تک اپنی عقل کے مطابق سمجھا لیا اور پھر یہ بات بھی سامنے لائ گئ کہ یہ کائنات اایک خاص قوت / طاقت سے ایک دوسرے کرووں سے جڑی ہوئ ہے بلکہ کھنچی ہوئ بھی ہے ۔ یہ نہایت شاندار قوت سامنے آئ جس میں ہر کررہ اپنی جگہ اپنی ساخت سے ساتھ مکمل طور پر موجود ہے جو اپنے ایک مخصوص دائرے میں رہتے ہوۓ اپنا کام انجام دے رہا ہے ۔ اس قوت / طاقت کو سائنس نے کشش ثقل / گرویٹیشنل فورس سے متعرف کروایا ۔۔ یہ فورس کسی خروجی طاقت سے پیدا نہں ہوئ بلکہ یہ ازخود ان کروں کے اندر موجود چھوٹے زررات الیکٹرون پروٹون نامی زرات سے پیدا ہوتی ہے ۔ یہاں تک بات لانے کی وجہ صرف اتنی تھی کہ ایا ان زرات کے اندر یہ طاقت کیسے پیدا ہوگئ ؟ کیا یہ خود کار زرات ہیں جو خود ہی اپنے اندر قوت پیدا کر لیتے ہیں ؟ اگر یہ خود کار کہلاۓ جائنگے تو پھر اس بات پر یقین کرنا لازمی ہوجاتا ہے کہ یہ خود کار زرات اپنی اس قوت کو خود ہی روک بھی سکتے ہیں !!
لمحہ بھر کے لیے فرض کر لیں کہ اگر یہ خود کار زرات خود ہی اپنی قوت کو روک لیں اور یہ اپنے دائروں میں سفر کرنا چھوڑ دیں تو اس کائنات میں کشش ثقل پر محیط کروں کی کیا حالت رہ جاۓ گی ؟؟؟؟ یہ کائنات شائد سیکنڈوں میں تباہ ہوجاۓ ۔ لیکن یہ طاقت انمیں انکی پیدا کردہ نہں شائد اسلیے یہ 14 ارب سسال سے گردش میں ہیں اور اس کائنات کو خوبصورتی سے پھیلاۓ رکھیں ہیں ۔۔ یہاں دوسری بات اور سمجھنے کی ہے کہ کیا یہ کائنات بگ بنگ سے پہلے کسی خاص شکل میں موجود تھی ؟ اگر ہاں تو کیا تھی اور اُسکا وجود کیسے ہوا ۔۔۔۔۔۔۔۔ ان دو سوالوں کو سامنے رکھ کر ہم اس بات پر یقین کر سکتے ہیں کہ کائنات میں کوئ موجود ہے جو اس نظام ہستی کو بہت احسن انداز میں نا صرف چلا رہا ہے بلکہ سمبھالا ہوا بھی ہے ۔۔۔
اب اتے ہیں اللہ کی نازل کردہ کتاب ۔۔۔۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ہم نے خود ہی یہ سوال بھی اُٹھایا کہ ہم کیسے یقین کرلیں کہ جو کتاب ہمیں یہ کہہ کر بتائ جا رہی ہے وہ واقعی کسی طاقت ور اللہ کی بھیجی ہوئ ہے !
اس بات کو سمجھنے کے لیے ہم عقلی طور پر ایک اصول مرتب کرتے ہیں کہ اگر کوئ لافانی طاقت وجود رکھتی ہے تو وہ تضاد اور نقص سے پاک ہوگی ۔۔ !
اور جب ہم قرآن کو پڑھتے ہیں تو ہمیں کسی بھی مقام پر نا اس کتاب کے پیغام میں کوئ تضاد نظر آتا ہے اور ناہی کوئ نقص ! ۔۔ صرف یہ ہی نہں بلکہ زندگی گزارنے کے یہ وہ سنہری اصول مرتب دیتی ہے جس کو نافذ کرکے ہم صدیوں کی ترقی سالوں میں حاصل کرسکتے ہیں ۔ یہ کتاب ہمیں معاشرتی تعلیم سے سرفراز کرتی ہے ۔ یہ کتاب ہمیں سماجی و معاشی تعلیمات سے سر فراز کرتی ہے ۔ یہ ہمیں اخلاقیات کا بہترین درس دیتی ہے ۔ الغرض یہ وہ کتاب ہے جو اپنے ہی پیغام کے زریعہ خود یہ بات کہتی ہے کہ اس کتاب میں موجود پیغام ۔۔۔ تمام اقوام عالم کے لیے رحمت ہے !
لہزا ہمیں یہاں یہ بات سمجھنے کو ملتی ہے کہ ہماری دنیا میں ایک ایسی کتاب موجود ہے جو پہلے تو تمام تضاد اور نقائص سے پاک ہے دوسری یہ وہ زبردست پیغام دیتی ہے جس پر عمل کرکے ہم اپنی دنیا کو اپنے ہاتھوں سے جنت / خوبصورت / حسین و جمیل بنا سکتے ہیں ۔۔
ان تمام باتوں کو سامنے رکھتے ہوۓ ہم یہ کہہ سکتے ہیں کہ یہ ایک الہامی پیغام / کتاب ہے جو کہ انسان ساختہ تضاد و نقائص سے پاک اور عقل و شعور سے اوپر لے جاکر انسان کو اُسکی بہترین پرورش ( جسمانی اور اخلاقی ) تک پہنچانے کی زمہ دار بھی ۔۔۔
جب ہمارا زھن اپنے ہی اُٹھاۓ گئے سوالوں پر جواب حاصل کر کے مطمئین ہوجاتا ہے پھر ہم یہ بات کہنے میں حق بجانب ہیں کہ اللہ ایک خاص / زبردست / ناقابل شکست طاقت کے ساتھ اس کائنات میں موجود ہے اور اس کائنات کا ہر ایک کرہ ہر ایک زررہ بشمول انسان حیوان نباتات جمادات ۔ سب کے سب اُسی طاقت / قدرت / اللہ کے بناۓ ہوۓ اصولوں / قوانین کے پابند ہیں ۔
ہمارا ہر ایک عمل اُس کے بناۓ ہوۓ اصول سے زبردست طریقے سے جُڑا ہوا ہے ۔ ہم نا چاہتے ہوۓ بھی اُس کے اصولوں کو مان رہے ہیں اور مانتے رہینگے !
لہزا ہم مسلم ہوں ۔ یہودی ہوں ۔ عیسائی ہوں ۔ ستارہ پرست ہوں ۔ یا ملحد ہوں ۔
اگر ہم اس دنیا میں کائناتی اصولوں کی پاسداری کرتے ہوۓ خلق انسانی کے لیے کوئ مثبت کام انجام دیتے ہیں تو اللہ کہ یہاں اس کا بہترین صلہ موجود ہے ۔ !!!
(شاھد راۓ)
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ہم نے خود ہی یہ سوال بھی اُٹھایا کہ ہم کیسے یقین کرلیں کہ جو کتاب ہمیں یہ کہہ کر بتائ جا رہی ہے وہ واقعی کسی طاقت ور اللہ کی بھیجی ہوئ ہے !
اس بات کو سمجھنے کے لیے ہم عقلی طور پر ایک اصول مرتب کرتے ہیں کہ اگر کوئ لافانی طاقت وجود رکھتی ہے تو وہ تضاد اور نقص سے پاک ہوگی ۔۔ !
اور جب ہم قرآن کو پڑھتے ہیں تو ہمیں کسی بھی مقام پر نا اس کتاب کے پیغام میں کوئ تضاد نظر آتا ہے اور ناہی کوئ نقص ! ۔۔ صرف یہ ہی نہں بلکہ زندگی گزارنے کے یہ وہ سنہری اصول مرتب دیتی ہے جس کو نافذ کرکے ہم صدیوں کی ترقی سالوں میں حاصل کرسکتے ہیں ۔ یہ کتاب ہمیں معاشرتی تعلیم سے سرفراز کرتی ہے ۔ یہ کتاب ہمیں سماجی و معاشی تعلیمات سے سر فراز کرتی ہے ۔ یہ ہمیں اخلاقیات کا بہترین درس دیتی ہے ۔ الغرض یہ وہ کتاب ہے جو اپنے ہی پیغام کے زریعہ خود یہ بات کہتی ہے کہ اس کتاب میں موجود پیغام ۔۔۔ تمام اقوام عالم کے لیے رحمت ہے !
لہزا ہمیں یہاں یہ بات سمجھنے کو ملتی ہے کہ ہماری دنیا میں ایک ایسی کتاب موجود ہے جو پہلے تو تمام تضاد اور نقائص سے پاک ہے دوسری یہ وہ زبردست پیغام دیتی ہے جس پر عمل کرکے ہم اپنی دنیا کو اپنے ہاتھوں سے جنت / خوبصورت / حسین و جمیل بنا سکتے ہیں ۔۔
ان تمام باتوں کو سامنے رکھتے ہوۓ ہم یہ کہہ سکتے ہیں کہ یہ ایک الہامی پیغام / کتاب ہے جو کہ انسان ساختہ تضاد و نقائص سے پاک اور عقل و شعور سے اوپر لے جاکر انسان کو اُسکی بہترین پرورش ( جسمانی اور اخلاقی ) تک پہنچانے کی زمہ دار بھی ۔۔۔
جب ہمارا زھن اپنے ہی اُٹھاۓ گئے سوالوں پر جواب حاصل کر کے مطمئین ہوجاتا ہے پھر ہم یہ بات کہنے میں حق بجانب ہیں کہ اللہ ایک خاص / زبردست / ناقابل شکست طاقت کے ساتھ اس کائنات میں موجود ہے اور اس کائنات کا ہر ایک کرہ ہر ایک زررہ بشمول انسان حیوان نباتات جمادات ۔ سب کے سب اُسی طاقت / قدرت / اللہ کے بناۓ ہوۓ اصولوں / قوانین کے پابند ہیں ۔
ہمارا ہر ایک عمل اُس کے بناۓ ہوۓ اصول سے زبردست طریقے سے جُڑا ہوا ہے ۔ ہم نا چاہتے ہوۓ بھی اُس کے اصولوں کو مان رہے ہیں اور مانتے رہینگے !
لہزا ہم مسلم ہوں ۔ یہودی ہوں ۔ عیسائی ہوں ۔ ستارہ پرست ہوں ۔ یا ملحد ہوں ۔
اگر ہم اس دنیا میں کائناتی اصولوں کی پاسداری کرتے ہوۓ خلق انسانی کے لیے کوئ مثبت کام انجام دیتے ہیں تو اللہ کہ یہاں اس کا بہترین صلہ موجود ہے ۔ !!!
(شاھد راۓ)
بروایت سعید احمد
گروپ جوابات للکافرین









No comments:
Post a Comment