چہرے کے پردے کا بیان قرآن و حدیث سے
جہاں تک چہرے کے پردے کی بات ہے تو عورت کے لیے چہرے کا پردہ واجب ہے۔
کتاب و سنت میں اس کے متعدد دلائل موجود ہیں۔خود عہدِ نبوی سے لے کر خلافتِ راشدہ تک تمام مسلم خواتین کا اسی پر عمل رہا ۔
قرآن کریم میں اللہ تعالی کا ارشاد ہے:
و لا یبدین زینتھن الا ما ظھر منھا
(النور:31)
کتاب و سنت میں اس کے متعدد دلائل موجود ہیں۔خود عہدِ نبوی سے لے کر خلافتِ راشدہ تک تمام مسلم خواتین کا اسی پر عمل رہا ۔
قرآن کریم میں اللہ تعالی کا ارشاد ہے:
و لا یبدین زینتھن الا ما ظھر منھا
(النور:31)
”اور وہ (خواتین)اپنی زینت ظاہر نہ کریں،ہاں مگر وہ زینت جو ظاہر ہو جائے“۔
یہاں پر زینت سے مراد وہ چیزیں ہیں جو خود بخود ظاہر ہو جاتی ہیں۔جیسے عورت کے بدن کا خاکہ یا خدّوخال،یا ہوا کی وجہ سے کبھی برقع یا چادر کھسک جائے توجو خود ظاہر ہو جائے ۔
یعنی بلاارادہ خود سے جو کچھ بھی ظاہر ہو، وہ اس میں شامل ہے۔
لیکن چہرے کو اس میں شمار نہیں کیا جا سکتا کیوں کہ وہ اس کوجان بوجھ کر ہی کھولے گی۔
اسی مفہوم کو عبداللہ بن مسعودؓ، حسن بصریؒ،ابن سیرین،ابراہیم نخعی اور سید ابوالاعلی مودودیؒ وغیرہ نے بیان کیا ہے۔
یعنی بلاارادہ خود سے جو کچھ بھی ظاہر ہو، وہ اس میں شامل ہے۔
لیکن چہرے کو اس میں شمار نہیں کیا جا سکتا کیوں کہ وہ اس کوجان بوجھ کر ہی کھولے گی۔
اسی مفہوم کو عبداللہ بن مسعودؓ، حسن بصریؒ،ابن سیرین،ابراہیم نخعی اور سید ابوالاعلی مودودیؒ وغیرہ نے بیان کیا ہے۔
ایک اور جگہ اللہ تعالی نے فرمایا:
یا ایھا النبی قل لازوٰجک و بناتک
و نساءالمومنین یدنین علیھن من جلٰبیبھن ذٰلک ادنیٰ ان یعرفن فلا یو ¿ذین و کان اللہ غفوراً رحیما ً(الاحزاب:33)
”اے نبی!اپنی بیویوں اور اپنی بیٹیوں اور مومنوں کی عورتوں سے کہہ دیجیے کہ وہ اپنے اوپر اپنی چادر لٹکا لیا کریں،
یہ (بات اس کے)زیادہ قریب ہے کہ وہ پہچان لی جائیں اور انہیں ایذا نہ پہنچائی جائے،
اور اللہ بہت بخشنے والا،نہایت رحم کرنے والا ہے۔“
یا ایھا النبی قل لازوٰجک و بناتک
و نساءالمومنین یدنین علیھن من جلٰبیبھن ذٰلک ادنیٰ ان یعرفن فلا یو ¿ذین و کان اللہ غفوراً رحیما ً(الاحزاب:33)
”اے نبی!اپنی بیویوں اور اپنی بیٹیوں اور مومنوں کی عورتوں سے کہہ دیجیے کہ وہ اپنے اوپر اپنی چادر لٹکا لیا کریں،
یہ (بات اس کے)زیادہ قریب ہے کہ وہ پہچان لی جائیں اور انہیں ایذا نہ پہنچائی جائے،
اور اللہ بہت بخشنے والا،نہایت رحم کرنے والا ہے۔“
صحابیات نے اس آیت سے مرادپورے بدن کے ساتھ ساتھ چہرہ ڈھکنا بھی لیا تھا۔حضرت ام سلمہؓ نے فرمایا:
”جب یہ آیت نازل ہوئی تو انصاری خواتین سیاہ چادریں اوڑھے کے نکلیں۔“
(ابوداود:4101)
اور اگر چہرہ کھلا رہے گا تو کیا یہ ممکن ہے کہ عورت پہچان میں نہ آئے؟
”جب یہ آیت نازل ہوئی تو انصاری خواتین سیاہ چادریں اوڑھے کے نکلیں۔“
(ابوداود:4101)
اور اگر چہرہ کھلا رہے گا تو کیا یہ ممکن ہے کہ عورت پہچان میں نہ آئے؟
سورة نور میں اللہ تعالی کا ارشاد ہے:
ولا یضربن بارجلھن لیعلم ما یخفین من زینتھن (النور:24)
”اور اپنے پائوں (زمین پر)نہ ماریں تاکہ ان کی وہ زینت معلوم ہو جو وہ چھپاتی ہیں“۔
یعنی اگر عورت نے پائل وغیرہ پہنی ہوئی ہے تو اس کے لیے جائز نہیں ہے کہ وہ زمین پر پائوں مارتی چلے کہ مرد جھنکار سے اس کی طرف مائل ہو۔
یہاں پر غور کرنے کی بات ہے کہ پائل تک سے تو منع کیا جا رہا ہے لیکن کیا ایسا ممکن ہے کہ چہرہ ہی جس میں سارا حسن اورکشش ہے، اسے یو ں ہی لوگوں کو اپنی طرف دعوت دینے کے لیے کھلا رکھنے کے لیے کہا جائے گا؟ استغفراللہ
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ولا یضربن بارجلھن لیعلم ما یخفین من زینتھن (النور:24)
”اور اپنے پائوں (زمین پر)نہ ماریں تاکہ ان کی وہ زینت معلوم ہو جو وہ چھپاتی ہیں“۔
یعنی اگر عورت نے پائل وغیرہ پہنی ہوئی ہے تو اس کے لیے جائز نہیں ہے کہ وہ زمین پر پائوں مارتی چلے کہ مرد جھنکار سے اس کی طرف مائل ہو۔
یہاں پر غور کرنے کی بات ہے کہ پائل تک سے تو منع کیا جا رہا ہے لیکن کیا ایسا ممکن ہے کہ چہرہ ہی جس میں سارا حسن اورکشش ہے، اسے یو ں ہی لوگوں کو اپنی طرف دعوت دینے کے لیے کھلا رکھنے کے لیے کہا جائے گا؟ استغفراللہ
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
عورتوں کے لیے چہرہ کا بھی پردہ ہے، اس کی ابتداء آیت حجاب کے آغاز سے ہے
قال تعالی: وَقَرْنَ فِی بُیُوتِکُنَّ وَلَا تَبَرَّجْنَ تَبَرُّجَ الْجَاہِلِیَّةِ الْأُولَی (الآیة)
تم اپنے گھروں میں قرار سے رہو اور قدیم زمانہ جہالت کے دستور کے موافق مت پھرو (جس میں بے پردگی رائج تھی گو بلا فحش ہی کیوں نہ ہو) اس آیت کی تفسیر کرتے ہوئے مفتی شفیع صاحب تحریر فرماتے ہیں: ”اس آیت سے پردے کے متعلق دو باتیں معلوم ہوئیں اول یہ کہ اصل مطلوب عند اللہ عورتوں کے لیے یہ ہے کہ وہ گھروں سے باہر نہ نکلیں ان کی تخلیق گھریلو کاموں کے لیے ہوئی ہے ان میں مشغول رہیں
اور اصلی پردہ جو شرعاً مطلوب ہے وہ حجاب بالبیوت ہے،
دوسری بات یہ معلوم ہوئی کہ اگر بضرورت کبھی عورت کو گھر سے نکلنا پڑے تو زینت کے اظہار کے ساتھ نہ نکلے بلکہ برقع یا جلباب جس میں پورا بدن ڈھک جائے وہ پہن کر نکلے (معارف القرآن: ۷/ ۱۳۳)
اس سے بوقت ضرورت عورت کے لیے نکلتے وقت چہرہ چھپانے کا حکم معلوم ہوا، ایک دوسری آیت میں صراحتاً چہرہ چھپانے کا حکم مذکور ہے۔
قال تعالی: یَا أَیُّہَا النَّبِیُّ قُلْ لِأَزْوَاجِکَ وَبَنَاتِکَ وَنِسَاءِ الْمُؤْمِنِینَ یُدْنِینَ عَلَیْہِنَّ مِنْ جَلَابِیبِہِنَّ الخ
اے پیغمبر اپنی بیویوں سے اور اپنی صاحبزادیوں سے اور دوسرے مسلمانوں کی عورتوں سے بھی کہہ دیجیے کہ وہ اپنی چادریں اپنے (منھ کے اوپر) جھکالیا کریں۔ اس آیت میں جلابیب جمع جلباب کا ذکر ہے جو ایک خاص لمبی چادر کو کہا جاتا ہے اس چادر کی ہیئت کے متعلق حضرت ابن مسعود نے فرمایات کہ وہ چادر ہے جو دوپٹے کے اوپر اوڑھی جاتی ہے۔ (ابن کثیر)
اور حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ نے اس کی ہیئت یہ بیان فرمائی ہے
أمر اللہ نساء المومنین إذا خرجن من بیوتہن في حاجة أن یغطین وجوہہن من فوق رووسہن بالجلابیب ویدنین عینا واحدة
(ابن کثیر)
اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کی عورتوں کو حکم دیا کہ جب وہ کسی ضرورت سے اپنے گھروں سے نکلیں تو اپنے سروں کے اوپر سے یہ چادر لٹکاکر چہروں کو چھپالیں اور صرف ایک آنکھ (راستہ دیکھنے کے لیے) کھلی رکھیں،اور امام محمد بن سیرین فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت عبیدہ سلمانی سے اس آیت کا مطلب اور جلباب کی کیفیت دریافت کی تو انھوں نے سر کے اوپر سے چادر․․․ چہرہ پر لٹکاکر چہرہ چھپالیا اور صرف بائیں آنکھ کھلی رکھ کر ”ادنا“ اور ”جلباب“ کی تفسیر عملاً بیان فرمائی
(معارف القرآن)
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
- حضرت جریر بن عبداللہ بجلی کہتے ہیں کہ میں نے نبی اکرم سے پوچھا ” اچانک نگاہ پڑ جائے توکیاکروں۔فرمایا فوراً نگاہ پھیر لو یا نیچی کر لو“۔
( مسلم ، ترمذی ، ابوداود، نسائی)
تم اپنے گھروں میں قرار سے رہو اور قدیم زمانہ جہالت کے دستور کے موافق مت پھرو (جس میں بے پردگی رائج تھی گو بلا فحش ہی کیوں نہ ہو) اس آیت کی تفسیر کرتے ہوئے مفتی شفیع صاحب تحریر فرماتے ہیں: ”اس آیت سے پردے کے متعلق دو باتیں معلوم ہوئیں اول یہ کہ اصل مطلوب عند اللہ عورتوں کے لیے یہ ہے کہ وہ گھروں سے باہر نہ نکلیں ان کی تخلیق گھریلو کاموں کے لیے ہوئی ہے ان میں مشغول رہیں
اور اصلی پردہ جو شرعاً مطلوب ہے وہ حجاب بالبیوت ہے،
دوسری بات یہ معلوم ہوئی کہ اگر بضرورت کبھی عورت کو گھر سے نکلنا پڑے تو زینت کے اظہار کے ساتھ نہ نکلے بلکہ برقع یا جلباب جس میں پورا بدن ڈھک جائے وہ پہن کر نکلے (معارف القرآن: ۷/ ۱۳۳)
اس سے بوقت ضرورت عورت کے لیے نکلتے وقت چہرہ چھپانے کا حکم معلوم ہوا، ایک دوسری آیت میں صراحتاً چہرہ چھپانے کا حکم مذکور ہے۔
قال تعالی: یَا أَیُّہَا النَّبِیُّ قُلْ لِأَزْوَاجِکَ وَبَنَاتِکَ وَنِسَاءِ الْمُؤْمِنِینَ یُدْنِینَ عَلَیْہِنَّ مِنْ جَلَابِیبِہِنَّ الخ
اے پیغمبر اپنی بیویوں سے اور اپنی صاحبزادیوں سے اور دوسرے مسلمانوں کی عورتوں سے بھی کہہ دیجیے کہ وہ اپنی چادریں اپنے (منھ کے اوپر) جھکالیا کریں۔ اس آیت میں جلابیب جمع جلباب کا ذکر ہے جو ایک خاص لمبی چادر کو کہا جاتا ہے اس چادر کی ہیئت کے متعلق حضرت ابن مسعود نے فرمایات کہ وہ چادر ہے جو دوپٹے کے اوپر اوڑھی جاتی ہے۔ (ابن کثیر)
اور حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ نے اس کی ہیئت یہ بیان فرمائی ہے
أمر اللہ نساء المومنین إذا خرجن من بیوتہن في حاجة أن یغطین وجوہہن من فوق رووسہن بالجلابیب ویدنین عینا واحدة
(ابن کثیر)
اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کی عورتوں کو حکم دیا کہ جب وہ کسی ضرورت سے اپنے گھروں سے نکلیں تو اپنے سروں کے اوپر سے یہ چادر لٹکاکر چہروں کو چھپالیں اور صرف ایک آنکھ (راستہ دیکھنے کے لیے) کھلی رکھیں،اور امام محمد بن سیرین فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت عبیدہ سلمانی سے اس آیت کا مطلب اور جلباب کی کیفیت دریافت کی تو انھوں نے سر کے اوپر سے چادر․․․ چہرہ پر لٹکاکر چہرہ چھپالیا اور صرف بائیں آنکھ کھلی رکھ کر ”ادنا“ اور ”جلباب“ کی تفسیر عملاً بیان فرمائی
(معارف القرآن)
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
- حضرت جریر بن عبداللہ بجلی کہتے ہیں کہ میں نے نبی اکرم سے پوچھا ” اچانک نگاہ پڑ جائے توکیاکروں۔فرمایا فوراً نگاہ پھیر لو یا نیچی کر لو“۔
( مسلم ، ترمذی ، ابوداود، نسائی)
جس مسلمان کی نگاہ کسی عورت کے حسن پر پڑے اور وہ نگاہ ہٹالے تو اللہ اس کی عبادت میں لطف اور لذت پیدا کردیتا ہے “۔ ( مسند احمد )
اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے کہ نگاہ ابلیس کے زہریلے تیروں میں سے ایک تیر ہے۔ جو شخص مجھ سے ڈر کر اس کی حفاظت کرے گا میں اس کے بدلے ایسا ایمان دوں گا جس کی حلاوت وہ اپنے دل میں پائے گا۔ ( طبرانی )
نوٹ : کسی اجنبی عورت کو دیکھنے کی بعض صورتوں میں اجازت ہے مثلًا : اگر ایک شخص کسی عورت سے نکاح کرنا چاہے تو اسے اجازت ہے کہ چوری چھپے اس پر ایک نظر ڈال سکتا ہے۔
حضرت مغیرہ بن شعبہ نے ایک جگہ نکاح کا پیغام بھجوایا۔ رسول اللہ نے پوچھا کہ تم نے لڑکی کو دیکھا ہے؟
انہوں نے عرض کیا نہیں۔ فرمایا اسے دیکھ لواس طرح زیادہ توقع کی جاسکتی ہے کہ تمہارے درمیان موافقت ہوگی۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
نوٹ : کسی اجنبی عورت کو دیکھنے کی بعض صورتوں میں اجازت ہے مثلًا : اگر ایک شخص کسی عورت سے نکاح کرنا چاہے تو اسے اجازت ہے کہ چوری چھپے اس پر ایک نظر ڈال سکتا ہے۔
حضرت مغیرہ بن شعبہ نے ایک جگہ نکاح کا پیغام بھجوایا۔ رسول اللہ نے پوچھا کہ تم نے لڑکی کو دیکھا ہے؟
انہوں نے عرض کیا نہیں۔ فرمایا اسے دیکھ لواس طرح زیادہ توقع کی جاسکتی ہے کہ تمہارے درمیان موافقت ہوگی۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
قرآنِ کریم میں ارشاد ہے:
“وَقَرْنَ فِیْ بُیُوْتِکُنَّ وَلَا تَبَرَّجْنَ تَبَرُّجَ الْجَاھِلِیَّةِ الْأُوْلٰی۔” (الاحزاب:۳۳)
“وَقَرْنَ فِیْ بُیُوْتِکُنَّ وَلَا تَبَرَّجْنَ تَبَرُّجَ الْجَاھِلِیَّةِ الْأُوْلٰی۔” (الاحزاب:۳۳)
ترجمہ:… “اور ٹکی رہو اپنے گھروں میں اور مت نکلو پہلی جاہلیت کی طرح بن ٹھن کر۔”
“پہلی جاہلیت” سے مراد قبل از اسلام کا دور ہے، جس میں عورتیں بے حجابانہ بازاروں میں اپنی نسوانیت کی نمائش کیا کرتی تھیں۔ “
پہلی جاہلیت” کے لفظ سے گویا پیش گوئی کردی گئی کہ انسانیت پر ایک “دُوسری جاہلیت” کا دور بھی آنے والا ہے جس میں عورتیں اپنی فطری خصوصیات کے تقاضوں کو “جاہلیتِ جدیدہ” کے سیلاب کی نذر کردیں گی۔
قرآن کی طرح صاحبِ قرآن صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی صنفِ نازک کو سراپا ستر قرار دے کر بلاضرورت اس کے باہر نکلنے کو ناجائز فرمایا ہے:
“وعنہ (عن ابن مسعود رضی الله عنہ) عن النبی صلی الله علیہ وسلم قال: المرأة عورة فاذا خرجت استشرقھا الشیطان۔ (رواہ الترمذی، مشکوٰة ص:۲۶۹)
“پہلی جاہلیت” سے مراد قبل از اسلام کا دور ہے، جس میں عورتیں بے حجابانہ بازاروں میں اپنی نسوانیت کی نمائش کیا کرتی تھیں۔ “
پہلی جاہلیت” کے لفظ سے گویا پیش گوئی کردی گئی کہ انسانیت پر ایک “دُوسری جاہلیت” کا دور بھی آنے والا ہے جس میں عورتیں اپنی فطری خصوصیات کے تقاضوں کو “جاہلیتِ جدیدہ” کے سیلاب کی نذر کردیں گی۔
قرآن کی طرح صاحبِ قرآن صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی صنفِ نازک کو سراپا ستر قرار دے کر بلاضرورت اس کے باہر نکلنے کو ناجائز فرمایا ہے:
“وعنہ (عن ابن مسعود رضی الله عنہ) عن النبی صلی الله علیہ وسلم قال: المرأة عورة فاذا خرجت استشرقھا الشیطان۔ (رواہ الترمذی، مشکوٰة ص:۲۶۹)
ترجمہ:… “حضرت ابنِ مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: عورت سراپا ستر ہے، پس جب وہ نکلتی ہے تو شیطان اس کی تاک جھانک کرتا ہے۔”
اور اگر ضروری حوائج کے لئے اسے گھر سے باہر قدم رکھنا پڑے تو اسے حکم دیا گیا کہ وہ ایسی بڑی چادر اوڑھ کر باہر نکلے جس سے پورا بدن سر سے پاوٴں تک ڈھک جائے، سورہٴ احزاب آیت:۶۹ میں ارشاد ہے:
“یٰٓأَیُّھَا النَّبِیُّ قُلْ ِلّأَزْوَاجِکَ وَبَنٰتِکَ وَنِسَآءِ الْمُوٴْمِنِیْنَ یُدْنِیْنَ عَلَیْھِنَّ مِنْ جَلَابِیْبِھِنَّ۔”
ترجمہ:… “اے نبی! اپنی بیویوں، صاحبزادیوں اور مسلمانوں کی عورتوں سے کہہ دیجئے کہ وہ (جب باہر نکلیں تو) اپنے اُوپر بڑی چادریں جھکالیا کریں۔”
مطلب یہ کہ ان کو بڑی چادر میں لپٹ کر نکلنا چاہئے، اور چہرے پر چادر کا گھونگھٹ ہونا چاہئے۔
پردے کا حکم نازل ہونے کے بعد آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے مقدس دور میں خواتینِ اسلام کا یہی معمول تھا۔
اُمّ الموٴمنین حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کا ارشاد ہے کہ: “خواتین، آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی اقتدا میں نماز کے لئے مسجد آتی تھیں تو اپنی چادروں میں اس طرح لپٹی ہوئی ہوتی تھیں کہ پہچانی نہیں جاتی تھیں۔”
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ترجمہ:… “اے نبی! اپنی بیویوں، صاحبزادیوں اور مسلمانوں کی عورتوں سے کہہ دیجئے کہ وہ (جب باہر نکلیں تو) اپنے اُوپر بڑی چادریں جھکالیا کریں۔”
مطلب یہ کہ ان کو بڑی چادر میں لپٹ کر نکلنا چاہئے، اور چہرے پر چادر کا گھونگھٹ ہونا چاہئے۔
پردے کا حکم نازل ہونے کے بعد آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے مقدس دور میں خواتینِ اسلام کا یہی معمول تھا۔
اُمّ الموٴمنین حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کا ارشاد ہے کہ: “خواتین، آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی اقتدا میں نماز کے لئے مسجد آتی تھیں تو اپنی چادروں میں اس طرح لپٹی ہوئی ہوتی تھیں کہ پہچانی نہیں جاتی تھیں۔”
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
“عن أنس قال: قال رسول الله صلی الله علیہ وسلم: ما خیر للنساء؟ – فلم ندر ما نقول – فجاء علی رضی الله عنہ الٰی فاطمة رضی الله عنھا فاخبرھا بذٰلک، فقالت: فھلا قلت لہ خیرٌ لھنّ ان لا یرین الرجال ولا یرونھنّ۔ فرجع فأخبرہ بذٰلک، فقال لہ: من علّمک ھٰذا؟ قال: فاطمة! قال: انھا بضعة منّی۔
سعید بن المسیّب عن علیّ رضی الله عنہ انّہ قال لفاطمة: ما خیر للنساء؟ قالت: لا یرین الرجال ولا یرونھنّ، فذکر ذٰلک للنبی صلی الله علیہ وسلم فقال: انما فاطمة بضعة منی۔” (حلیة الاولیاء ج:۲ ص:۴۰، ۴۱)
ترجمہ:… “حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم سے فرمایا: بتاوٴ!
عورت کے لئے سب سے بہتر کون سی چیز ہے؟
ہمیں اس سوال کا جواب نہ سوجھا۔
حضرت علی رضی اللہ عنہ وہاں سے اُٹھ کر حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا کے پاس گئے، ان سے اسی سوال کا ذکر کیا،
حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا:
آپ لوگوں نے یہ جواب کیوں نہ دیا کہ عورتوں کے لئے سب سے بہتر چیز یہ ہے کہ وہ اجنبی مردوں کو نہ دیکھیں اور نہ ان کو کوئی دیکھے،
حضرت علی رضی اللہ عنہ نے واپس آکر یہ جواب آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے نقل کیا۔
آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: یہ جواب تمہیں کس نے بتایا؟
عرض کیا: فاطمہ نے!
فرمایا:
فاطمہ آخر میرے جگر کا ٹکڑا ہے ناں۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔
حضرت عائشہ صدیقہ ایک مرتبہ ایک نابینا صحابی کے سامنے آگئیں،
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا:
اے عائشہ! تم نے ایسا کیوں کیا؟
حضرت عائشہ نے عرض کیا کہ:
یا رسول اللہ! یہ نابینا ہیں۔
آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم تو نابینا نہیں ہو!
اس طرح آپ صلی اللہ علیہ سلم نے حضرت عائشہ کو تنبیہ فرمائی اور قیامت تک آنے والی خواتین کے لئے بہی ہدایت۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
عائشہ رضي اللہ تعالی عنہا بیان کرتی ہیں کہ ہم نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ حج کے لیئے نکلیں توہم احرام کی حالت میں تھیں ،
جب ہم سے کوئي قافلہ ملتا توہم اپنے چہرے پرکپڑا لٹکا لیا کرتی تھیں ۔ سنن ابوداود حدیث نمبر ( 1833 ) سنن ابن ماجہ حدیث نمبر ( 2935 ) ۔
عورت کے لئے سب سے بہتر کون سی چیز ہے؟
ہمیں اس سوال کا جواب نہ سوجھا۔
حضرت علی رضی اللہ عنہ وہاں سے اُٹھ کر حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا کے پاس گئے، ان سے اسی سوال کا ذکر کیا،
حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا:
آپ لوگوں نے یہ جواب کیوں نہ دیا کہ عورتوں کے لئے سب سے بہتر چیز یہ ہے کہ وہ اجنبی مردوں کو نہ دیکھیں اور نہ ان کو کوئی دیکھے،
حضرت علی رضی اللہ عنہ نے واپس آکر یہ جواب آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے نقل کیا۔
آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: یہ جواب تمہیں کس نے بتایا؟
عرض کیا: فاطمہ نے!
فرمایا:
فاطمہ آخر میرے جگر کا ٹکڑا ہے ناں۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔
حضرت عائشہ صدیقہ ایک مرتبہ ایک نابینا صحابی کے سامنے آگئیں،
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا:
اے عائشہ! تم نے ایسا کیوں کیا؟
حضرت عائشہ نے عرض کیا کہ:
یا رسول اللہ! یہ نابینا ہیں۔
آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم تو نابینا نہیں ہو!
اس طرح آپ صلی اللہ علیہ سلم نے حضرت عائشہ کو تنبیہ فرمائی اور قیامت تک آنے والی خواتین کے لئے بہی ہدایت۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
عائشہ رضي اللہ تعالی عنہا بیان کرتی ہیں کہ ہم نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ حج کے لیئے نکلیں توہم احرام کی حالت میں تھیں ،
جب ہم سے کوئي قافلہ ملتا توہم اپنے چہرے پرکپڑا لٹکا لیا کرتی تھیں ۔ سنن ابوداود حدیث نمبر ( 1833 ) سنن ابن ماجہ حدیث نمبر ( 2935 ) ۔
مشتاق احمد
گروپ
آپریشن ارتقائے فہم و دانش
گروپ
آپریشن ارتقائے فہم و دانش









No comments:
Post a Comment