بلاگ محافظ

website tracker

بلاگر حلقہ احباب

قربانی


..کچھ دن پہلے یہ پوسٹ مکرر نشر کی تھی ، آج ویب سائٹ "ہم سپ " پر ایک لبرل صاحب کا قربانی کے خلاف چھبتا اور "سڑتا " کالم پڑھا تو ضرورت محسوس هوں کہ پندرہ دن بعد سہی دوبارہ پوسٹ کی جا
ۓ .آپ بھی جی کھول کے share کیجئے نا ........ قربانی کے دن آ رہے ہیں ، خوشی کے دن ، لیکن ایک طبقے میں کچھ ہی روز میں مجلس عزا شروع ہونے کو ہے کہ " یہی پیسے کسی غریب کو دے دیں " 
...
ستر کی دھائی ختم ہو رہی تھی .. میں نے پانچ جماعتیں گھر میں ہی پڑھیں، پھر سال بھر کے لیے قریبی پرائمری سکول میں داخل ہو گیا ، اگلے برس ہی سینٹرل مڈل سکول چلا گیا..پرائمری میں پڑھا ایک سال استاد محترم محمد ادریس ہاشمی صاحب سے گہرا تعلق قائم کر گیا...جو ان کی وفات تک شائد تیس برس پر محیط ہے.. انہوں نے ایک مسجد بنائی ، پھر توسیع در توسیع کا سلسلہ چلتا رہا ، اور ایک ایکٹر تک پھیل گیا. گمان ہے کہ دو کروڑ کے لگ بھگ اکٹھے کر کے لگا دئیے ہوں گے... کچھ ہی برس پہلے ایک روز میرے پاس مکتبہ قدوسیہ پر بیٹھے تھے ، ٹھنڈے ٹھار لہجے میں بولے 
" یار ابو بکر میرے گھر میں سال کے سال عید پرہی چھوٹا گوشت پکتا ہے"...
.چلیے یہ تو ان کی ایمانداری تھی جو آج کا میرا موضوع نہیں
کتنے خاندان ایسے ہیں کہ جو سال کے سال "مٹن" کھاتے ہیں...کہ باقی سال ان کے بجٹ کے "متن" میں کہیں "مٹن " نہیں لکھا ہوتا..اور اب تو بڑا گوشت بھی ان کے نصیب کی کتاب سے نکلتا جا رہا ہے....
ابھی پڑھ رہا تھا کہ ایک اندازے کے مطابق پاکستان میں عید قربان پر ایک کروڑ پچیس لاکھ کے قریب جانور ذبح کیے جاتے ہیں...اور ان کا بیشتر کوشت تقسیم کر دیا جاتا ہے... اور یوں کچھ روز کو غربا کے ہاں بھی لذت کام و دھن کا سامان رہتا ہے....غریبوں کے گھر سے بھی " گوشت " کے سالن کی خوشبو اٹھتی ہے...ایسے میں بعض دل جلے اور "نصیب سڑے " کڑھ رہے ہوتے ہیں اور رو رہے ہوتے ہیں کہ 
"انہی پیسوں سے غریبوں کی مدد کر دی جاتی"...
ذرا غریبوں سے پوچھو تو وہ ان پر اور ان کے فلسفے پر چار حرف بھیجیں گے ...کہ مدد تو کسی نے کرنی نہیں ، لیکن یہ لبرل ان کی اس عیش کے بھی دشمن بنے ہو
ۓ ہیں
اب ذرا معاشی پہلو کی طرف آئیے:
ہم فرض کر لیتے ہیں کہ سوا کروڑ جانور جو لوگ منڈی میں لے کر آتے ہیں ، ان میں سے ہر ایک کم از کم پندرہ جانور لایا ہو گا... یعنی فی بندہ پندرہ جانور..اور سوا کروڑ کے لیے آٹھ لاکھ افراد چاہیے...اس کا مطلب ہے آٹھ لاکھ لوگ جو آگے کتنے افراد کے کفیل ہیں، کو روزگار مل گیا..پھر ان کے ساتھ مددگار ہوتے ہیں یعنی معاملہ ملین افراد سے آگے نکلتا ہے -
پھر جب منڈی میں آتے ہیں تو یہ جانور کسی گاڑی میں ہی آتے ہیں جس میں کسی لبرل کو گاڑی میں محترم "ڈونکی" صاحب کی جگہ نہیں جوتا ہوتا....وہ گاڑی پیٹرول سے چلتی ہے اور ہفتہ بھر ہزارہا گاڑیاں منہ مانگے دام لیتی ہیں اور یوں کئی گھروں کا چولہا جلتا ہے-
منڈی میں آ کر خالی پلاٹ کرائے پر دئیے جاتے ہیں..ابھی سگیاں پر دریائے راوی کے کنارے ایک دوست نے اپنا پلاٹ ایک لاکھ روپے کرائے پر دیا ہے..چند روز کا ایک لاکھ روپیہ -
پھر "لوکل" ٹرانسپورٹ مصروف عمل ہو جاتی ہے... اسی ہفتے مجھے گودام شفٹ کرنا تھا ، بہت اچھا انسان ہے جس کو میں نے کہا لیکن اس نے صاف انکار کر دیا کہ
" بھائی جان محنت بہت کم اور ایک دن کے پانچ سات ہزار کے پھیرے ، میں آپ کا کام نہیں کر سکتا"
...گائے کا پھیرا چار سے پانچ ہزار کا اور بکرے کا ایک ہزار کا لگا لیں .. چلیے لبرل جل جائیں گے ہم کہتے ہیں کہ سوا کروڑ بکرے ہی ہوتے ہیں گا
ۓ اور اونٹ کو بکرا ہی بنا لیں تو سواکروڑ بکرے کوایک ہزار سے ضرب دیں......چلیے مزید کم کر لیں کہ کسی کو ہارٹ اٹیک نہ ہو جائے...دوسوپچاس فی بکرا کر لیں ...جناب تین ارب روپے صرف لوکل "شفٹنگ" کرائے کی مد میں ہفتے بھر میں ایک جیب سے نکل کر دوسری جیب میں جاتے ہیں.یہ جو میں نے اتنا کم کر کے محض تین ارب روپیہ بنا دیا ہے حقیقت میں دس ارب روپے سے بھی زیادہ بنتا ہے ...کمال ہے کمال کہ محض لوکل شفٹنگ میں دس ارب روپے غریب کما جاتے ہیں -
..اور یہ جیب غریب کی ہے ..کیونکہ میرے علم کے مطابق ڈیفنس کے کسی "دانش ور" نے جانور لانے لے جانے کا ابھی بزنس نھیں کیا
اب آتے ہیں طبقہ "قصایاں" کی طرف ...جی ہاں جتنے جانور اتنے ذبیحے...ایک بندہ دس جانور کر لے..چلیے ان کی دل داری کو ایک بندہ بیس بکرے کر لیں...تو جناب پورے ملک میں سوا چھ لاکھ بندے اورصرف ایک ہیلپر لگا لیں تو بارہ لاکھ بندے تین دن میں اربوں روپے "چھاپ" لیتے ہیں....ویسے حساب لگانے سے یہ بھی پندرہ بیس ارب سے اوپر نکل جائیں گے 
".آئے هایے...اب سمجھ آئ...تسی ایس گل تو سڑے پئے او"...
میرے دانش ور " چاچو پھر آپ بھی قصاب ہی بن جائیں نا..وہ رکشوں کے پیچھے لکھا ہوتا ہے نا...
"دعا کریا کر ، سڑیا نہ کر"
تو جلا نہ کریں..دیکھیں ایک بکرے کے ذبح کی مزدوری کم از کم دو ہزار ہو چکی ہے..آپ کی خوشی کے لیے ہم اونٹوں کو بھی "بکری" کر دیتے ہیں ..چلئے ایک اور رعایت کہ پچیس لاکھ قصائی آپ کے عزیز ہو
ۓ کہ جو اپنا جانور خود ذبح کرتے ہیں...باقی بچے ایک کروڑ دیجئے ضرب...دو ہزار کروڑ..ایتھے رکھ...یعنی بیس ارب روپے جیبوں سے نکل کر فضا میں بکھر جاتے ہیں
بکرے ذبح ہو جاتے ہیں..کھا لیے جاتے ہیں..بکرے کے پائے تک"بھنا " لیے جاتے ہیں...اور آپ کی حسرتوں کا دھواں اٹھتا رہتا ہے...کہ کاش یہ پیسے کسی"غریب" دے دئیے ہوتے..کیونکہ گوشت کھانے والے..'پک ن ڈراپ" کرنے والے .چارہ بیچنے والے ، گلی گلی پھرنےوالے قصائی ، آنتیں تک اکٹھی کرنے والے تو آپ کی نظر میں امیر ہیں
..پھر کھالیں "اکٹھی " ہوتی ہیں...جس کی اصل میں آپ کو تکلیف ہے...
حہھھہ ہم آپ کے اصلی "درد جگر" کو جانتے ہیں....وہ یہی کھالوں والا ہے...اربوں روپے کی کھالیں اکٹھی ہوتی ہیں...بکتی ہیں..صاف ہوتی ہیں...پھر برآمد ہوتی ہیں...ملک کو زر مبادلہ آتا ہے..اور آپ جلتے ہیں....ابھی تواختصار کے سبب بہت سے متعلقہ شعبے ہم نے چھوڑ دئیے ہیں ،ورنہ کروڑوں کا چارہ بکتا ہے ، جانوروں کا زیور تک ، ان کے گلے کی زنجیریں ، پگ میں بندھے گھنگرو ، کس کس کا ذکر کریں ، ہر شے کا حجم کروڑوں اربوں میں جاتا ہے
.اور ہاں یاد آیا
جس گاڑی میں جانور آتے ہیں اس کے پیچھے لکھا ہوتا ہے کہ
"جلنے والے کا منہ کالا"
..
......................ابوبکر قدوسی
بروایت
احمد شاہ الہاشمی
گروپ آپریشن ارتقائے فہم و دانش


about author

Blogger Sens it website about blogger templates and blogger widgets you can find us on social media
Previous Post :Go to tne previous Post
Next Post:Go to tne Next Post

No comments:

Post a Comment